7 فروری 2014 - 20:30
انقلاب اسلامی ایران نے خطے میں اسلامی اقدار کو زندگی بخشی: ممتاز اہلسنت عالم دین

ایران کے ممتاز اہلسنت عالم دین اور سنندج شہر کے امام جمعہ نے ایران اور دنیا کے تمام خطوں میں اسلامی انقلاب کے محصولات اور نتائج کی طرف اشارہ کیا اور کہا :۔ مسلمانوں کا کھویا ہوا تشخص اسلامی انقلاب کی کامیابی کی وجہ سے ان کو واپس ملا ہے۔

ابنا: "نیوزنور"کے مطابق ایران کے ممتاز اہلسنت عالم دین اور سنندج  شہر کے امام جمعہ ماموستا حسام الدین مجتہدی نے اس ہفتے کی نماز جمعہ کے خطبوں میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ عشرہ مبارکہ فجر کے ایام اللہ کی مناسبت سے تبریک پیش کرتے ہوئے اظہار کیا : انقلاب اسلامی ایران نے ایران کے لوگوں کو ان کی دینی اور اسلامی پہچان واپس دلائی اور پوری دنیا میں اسلامی بیداری کی موج کے پھیلنے کا راستہ ہموار کیا ۔ انہوں نے مزید کہا : ملک میں اسلامی مذاہب اور اقوام کے اتحاد اور اتفاق کے سائے میں اور امام خمینی رہ کی عالمانہ ہدایتوں کے ساتھ آج ہم ایک ایسی حکومت کے قیام کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جو دینی تعلیمات کی بنیاد پر استوار ایک ترقی یافتہ نظام ہے اور اس سر بلند نظام کی عزت و قدرت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ایران کے فقہ شافعی کے مفتی اعظم نے تصریح کی؛طاغوت کے زمانے میں بہت سارے علماء اور دینی اور مذہبی کام کرنے والے لوگ سختی میں تھے اور عمومی محافل اور اداروں میں مذہبی اور قرآنی امور کی انجام دہی ممنوع تھی لیکن خدا کے فضل سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اداروں میں بھی نماز ہوتی ہے ۔ماموستا مجتہدی نے اسلامی نظام کے محصولات  کی حفاظت کے سلسلے میں ایران کے عوام کی بصیرت اور ہوشیاری کے سلسلے میں تاکید کی اور مزید کہا :ہمیں ان نعمتوں کا شکر گذار ہونا چاہیے اور اپنے ملک کی روز افزوں عزت اور بلندی کے لیے کوشش کرنا چاہیے اور یہ جان لینا چاہیے کہ اتحاد مسلمانوں کی روز افزوں  بلندی کے لیے اہم ترین ذریعہ ہے۔سنندج کے امام جمعہ نے اپنی تقریر کے دوسرے حصہ میں پوری تاریخ میں کردستانیوں کی  شجاعت اور ایران اسلامی کی ماہیت اور تہذیب کی بنیادوں اور اقدار کی حفاظت کی سلسلے میں کردستان کے لوگوں کے خصوصی کردار کی طرف اشارہ کیا اور کہا :حکومت کے اعلی حکام کو چاہیے کہ کردستان کے عوام پر خصوصی توجہ دیں اور اس علاقے میں ان کی محرومیتوں اور روز گار کی مشکلوں کو دور کرنے کے لیے کوشش کریں ۔ماموستا مجتھدی نے اجرای حکام اور صوبہ کے مدیروں سے کہا کہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے اور ان کے مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں دوگنی کوشش اور ہمت سے کام لیں ۔مجلس خبرگان رہبری میں کردستان کے عوام کے نمایندہ نے اپنی تقریر کے آخر میں ۲۲ بھمن کے مظاہروں میں حاضری کو دوسرے میدانوں میں حاضری کی مانند تقدیر ساز بتایا اور کہا : قوم کی شرکت ایک بار پھر دشمنوں کو نا امید اور مایوس کر دے گی اور ایرانیوں کے اتحاد اور اتفاق کو سب پر ظاہر کر دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲